ایسا دھرنا دیں گے کہ 2014 کا دھرنا بھول جائے گا، بلاول بھٹو زرداری

Bilawal

اسلام آباد -پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو حکومت سابقہ دھرنے بھول جائے گی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی اور تشدد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انسانی ترقی کے لئے سب سے زیادہ کام کیا، پہلے بھی کہا تھا جمہوریت ہمارا انتقام ہے، آج بھی اس پر قائم ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کشمیر پر حکومت کی پالیسی نظر نہیں آتی، گزشتہ 3سالوں سے کسی نے وزیراعظم کے منہ سے کشمیر کا نام نہیں سنا،وزیراعظم نوازشریف نے نریندر مودی کو کلین چٹ دے دی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ وزیراعظم کی ترجیح ہے کہ اپنی آف شور کمپنیوں کو کیسے بچایا جائے، آصف زرداری نے عالمی دباؤ کے باوجود پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط کیے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ انتخابات آزاد کشمیر کےلیے ٹرننگ پوائنٹ ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو حکومت 2014 کا دھرنا بھول جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں ہم نے ضیاء الحق اور مشرف کے خلاف کیسے لڑا تھا جبکہ انہوں نے عمران خان کے اس موقف کی تائید کی کہ جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ وزیراعظم نواز شریف کی طرز حکمرانی سے ہے۔ تاہم بلاول بھٹو نے ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے حوالے سے عمران خان کے بیان سے اختلاف کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں فوج آئے گی تو لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج پاکستان کی ہر سرحد پر تنائو ہے اور اس کی ذمہ دار حکومت ہے، حکومت کے پاس کوئی خارجہ پالیسی موجود نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ پیپلز پارٹی ہر آئینی فورم کو استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم کا احتساب یقینی بنائے گی اور جو بھی کریں گے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں گے۔ پی پی پی کے سربراہ نے بتایا کہ مفاہمت کی پالیسی میری نہیں تھی بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی تھی پیپلز پارٹی نظریاتی پارٹی ہے اور ہم اپنے نظریات کو نہیں بدل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ظلم ہورہا ہے، خاموش تماشائی نہیں بنا جاسکتا، عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *