بالجبر حصول انصاف؟

بابر ستارbabar sattar

کیا دیرپا حکمت عملی اور ادارا جاتی اصلاحات کی بجائے فوری حل کی تلاش کے معاملے میں برتری کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا، پاکستان کو بچانے میں ہماری مدد کرے گا؟ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پائیدار جمہوریت کے لئے ہمیں انتخابی عمل اور اس کے منصفانہ، شفاف اور ایماندارانہ نتائج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور قانون کی حکمرانی اور آئینی طرز حکومت کی نشوونما کے لئے ہمیں ایک ایسے عدالتی نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو طر فداری سے بالاتر ہو اور بروقت اور مساوات و انصاف کے استوار اصولوں سے بھرپور نتائج لائے۔
پاکستان تحریک انصاف کا یہ مؤقف نہایت سنجیدہ نوعیت کا ہے کہ اسے انتخابی یا عدالتی نظام سے انصاف نہیں ملا۔ لیکن ادراک کردہ ناانصافیوں کے سامنے ابھی صرف مجوزہ حل ہیں جو فرد کو اس مخمصے میں ڈال دیتے ہیں کہ(پہلے ہی) وزیر اعظم نہ بن سکنے پر عمران خان کی ذاتی مایوسی اور شریف برادران کے لئے ان کی نفرت نے ان کے فیصلے پر خاصا اثر ڈالا ہے یاکہیں ایسا نہ ہو کہ پی ٹی آئی تبدیلی کی نقیب نظر آنے کی بجائے ہماری بصارت کو محض اسی گند تک محدود رکھے جو خود ہمارے اندر پہلے ہی سے موجود ہے۔
رپورٹوں کے مطابق، عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ 14اگست کا لانگ مارچ محض اس صورت معطل ہو سکتا ہے اگرچیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں ایک تین رکنی عدالتی کمیشن بنا دیا جائے اور وہ انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرے اور دو ہفتوں کے اندر اندر اپنے نتائج سے قوم کو آگاہ کرے۔ تو پھر جیسا کہ میرے دوست سعد رسول نے گزشتہ ہفتے اپنے کالم میں بحث کی، کہیں واقعی پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عدالت کے خلاف تو نہیں؟ اگر عدالت عظمیٰ ایک سیاسی جماعت کوتکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے یا قابل دست اندازئ قانون قسم کا زخم لگا دیتی ہے تو پھر قانون، انصاف یا جمہوریت کے آخرکونسے اصول مداوے کے طور پربڑھتے ہوئے ہجوم کو مطمئن کر سکیں گے ؟
اپنی جماعت کا نام تحریک انصاف رکھنے والے عمران خان ، کیا یہ بھی نہیں سمجھتے کہ عدالتوں کو خوف اور حمایت کے تحفظات کے بغیر کام کرنے کی اجازت بھی ہونی چاہئے؟اگر پی ٹی آئی کے ساتھ گناہ افتخار چوہدری کے سپریم کورٹ نے کیا تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایسا پی ایم ایل این کی حمایت کی تر غیب ملنے پرکیا۔۔۔۔ تو پھر کیا ایسی غلطی پرکسی سپریم کور ٹ کومحض ملین مارچ کی دھمکی کے زیر اثر لا کردرست کیا جا سکتا ہے؟ کیا عمران خان اصولی مؤقف کے طور پر عدالتوں کے سیاست میں ملوث ہونے کی مخالفت کرتے ہیں یاوہ صرف ایک مخالف جماعت کے طور پر ایسا کرتے ہیں۔
کیا عمران خان اور پی ٹی آئی کے دوسرے سوچنے والے دماغ(بالخصوص اسد عمر، جہانگیرترین اور ڈاکٹر عارف علوی) اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ایک عدالت کو من پسند نتائج کے حصول کے لئے تقسیم کرنے کی دھمکی دینا ، انصاف کو گدلا کرنے کے مترادف ہے۔مقدمے کی سماعت کا طریقہ کار فاتحین اور شکست خودرگان پیدا کرنے کے لئے تشکیل دیا جاتا ہے۔ہر بار، جب عدالت کسی مقدمے کا فیصلہ سناتی ہے تو کم از کم ایک پارٹی ضرور ناخوش ہوتی ہے۔ یہاں پی ٹی آئی کیا مثال طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟کہ اگر عدالت انہیں ان کا مطلوبہ انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے یہاں تک کہ زیر سماعت مقدمے کے ایک فریق(پی ٹی آئی) کا صبر جواب دے جاتا ہے تو پھر وہ حق بجانب ہوں گے کہ عدالت کے قلم پر زبردستی کرنے کے لئے ایک مجمعہ باہر لے آئیں؟
کیا پی ٹی آئی نہیں جانتی کہ آئین آزادانہ اورمنصفانہ انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے نہ کہ عدلیہ یا انتظامیہ کو؟ اور یہ کہ امیدواروں کے نتائج کے اعلان کے 60روز بعد تو حتیٰ کہ الیکشن کمیشن بھی کسی انتخاب کو غیر مؤثر قرار نہیں دے سکتااور یہ کہ اس اختیارکا اظہار بھی بالخصوص الیکشن ٹربیونلز میں کیا جاتا ہے۔ اورکیا وہ یہ بھی نہیں جانتی کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہونے کے ناطے، سپریم کورٹ کا یہ کام ہی نہیں ہے کہ وہ حقائق کوجانچے، اور جب ایسا کردارچیف جسٹس افتخار چودھری کی جانب سے ادا کیا جاتا تھا تو اسے اختیار کا ناجائز استعمال یا کچھ ایسا ہی سمجھا جاتا تھا؟
نکتہ یہ ہے کہ نعرے لگانا، تنقید کرنا اور دھمکیاں دینا، ہمیں اداراجاتی اور طرز ہائے عمل کی ان اصلاحات کی ترغیب نہیں دے گا جن کی ہمیں اپنے انتخابی اور عدالتی شعبوں کے لئے ضرورت ہے۔ٹھوس تبدیلی، انتہائی عمومی حالات میں شدید سرکھپائی والے کام کا تقاضا کیاکرتی ہے۔یہ تبدیلی بریکنگ نیوز پیدا نہیں کیا کرتی اور نہ ہی اس کا ثمر اسی وقت ملا کرتا ہے۔ ہم لوگ پاکستان میں بونوں کی زیر قیادت رہنے کے سبب، بدقسمتی سے بلاغت کو اصلاح کے ساتھ، اور الزام تراشیوں اور میڈیا ٹرائل کو احتساب اور انصاف کے ساتھ خلط ملط کرنے لگے ہیں۔
انتخابی اور عدالتی اصلاحات ایسے معاملات ہیں کہ جن پرشدید احتجاج کیا جانا چاہئے اوران کے لئے بہت زیادہ مارچ کئے جانے چاہیں کیونکہ ان پر اسرار ہی دراصل پاکستان کی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر اسرار ہیں۔ لیکن کیا چار حلقوں میں دوبارہ گنتی یا دوبارہ انتخاب یہ یقین دہانی کرائے گا کہ پاکستان میں برقی ووٹنگ متعارف کرائی جائے گی اور یہ کہ اگلے انتخابات میں ریٹرننگ افسران باقاعدہ تربیت یافتہ اور آزاد ہوں گے یا یہ کہ انتخابی تنازعات کو طے کرنے کے لئے موجود مشینری قابل یقین اور مؤثر ہوگی؟
کیا حصول انصاف کے ایک ذریعے کے طورپرلانگ مارچ کی دھمکی، ہمیں اس آئینی معاہدے کے قریب لے جائے گی کہ عدالتوں کو تمام شہریوں سے یکساں سلوک کرنا چاہئے(خواہ وہ کوئی عمران خان ہوجودکھی ہے یا ایک اوسط سطح کا عام آدمی ہو)یا کیا یہ دھمکی اس ’’زمینی حقیقت ‘‘کو مزید مستحکم کر دے گی کہ وہ جو دوسروں سے زیادہ ’’برابر‘‘ ہیں، ان سے امتیازی سلوک کیا جاناچاہئے؟ اگر پی ٹی آئی حقیقی طور پر پاکستان کے لئے تبدیلی کی نقیب بننے میں دلچسپی لیتی ہے تو اسے اپنے موجودہ مؤقف سے نیچے اتر کرقومی حکمت عملی کی اصلاح کے پیچ کسنے ہوں گے اور اپنے لئے اور اپنے حامیوں کے لئے ’’تاخیر زدہ تشکر‘‘ کا نظریہ چننا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *