دنیا میں 20 ممالک کے ایٹم بم کسی وقت بھی عالمی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں !

us missiعام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دنیا کے7 ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ۔ یعنی پاکستان، انڈیا ، امریکا ، چین ، فرانس ، روس اور برطانیہ ۔ اس کے علاوہ معلوم طور جنوبی افریقہ ،اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس بھی یہ ہتھیار موجود ہیں۔ لیکن ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد دنیا کو ایک خوفناک بات معلوم ہوئی، وہ یہ کہ جس ایئر بیس میں باغی فوجیوں کو قید کیا گیا تھا ، وہاں امریکی فوجی اڈہ تھا اور وہاں پر بیس سے زیادہ ایٹم بم موجود تھے ۔ یہ ایٹم بم باغیوں اور ترکی کی وفادار فوجوں کی کسی جھڑپ میں یا تو چرائے جا سکتے تھے یا وہ ڈرٹی بم کی شکل اختیار کر کے دنیا کے لیے تباہی کا پیش خیمہ بن سکتے تھے۔ یہ درست ہے کہ اکثر ممالک کے ایٹم بم اس وقت تک نہیں فائر ہوسکتے جب تک سیاسی یا ملٹری ہائی کمان اس میں خفیہ کوڈ اپ لوڈ نہ کریں ۔ لیکن اب کمپیوٹر ہیکنگ میں اتنی ترقی ہو چکی ہے ممکنہ طور پر یہ کوڈ ’ڈی کوڈ یفائیڈ ‘ہو سکتے ہیں ۔ یا اس کی یہ شکل بھی ہوسکتی ہے جو بلاک بسٹ فلم ’المپک ہیز فالن ‘ میں دکھائی گئی ہے کہ صدر امریکہ کوڈ بتانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ بھی ایک معلوم حقیقت ہے دنیا میں بیس سے زیادہ ایسے ممالک ہیں جہاں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے فوجی اڈے موجود ہیں اور وہاں پر یقینی طور پر ایٹمی ہتھیار بھی ذخیرہ ہیں جنھیں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔اس موضوع پر دنیا میں بیسٹ سیلنگ ناول اور موویز بھی بن چکی ہیں ۔ چنانچہ دفاعی ماہرین جو ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ہیں ان کی یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ ایٹمی ہتھیار جنگ کے علاوہ بھی کسی وقت دنیا کے لیے قیامت کا باعث بن سکتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *