ایف بی آر کا اعدادوشمار کا کھیل

Ikramڈاکٹر اکرام الحق

2013-14 کے مالی سال کے قریب ایف بی آر نے ایک مرتبہ پھر فرضی اعدادوشمارکا کھیل دکھا دیا کیونکہ اس کے افسران جانتے ہیں کہ کوئی اتھارٹی اُنہیں ایسی غیر قانونی حرکتوں پر سزا نہیں دے گی۔ ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس کی وصولی کے فرضی اعدادوشمار دکھانے کی روایت کی نشاندہی آزاد ذرائع اور قرضے دینے والی غیر ملکی تنظیموں نے کی ہے لیکن سزا ملنا تو درکنار، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یا سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے مالیاتی امورنے کبھی بھی اس معاملے پر انکوائری کی سفارش تک نہیں کی۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں سزا اور جزا کی رویت سیاست کی نذر ہوچکی ہے۔
ایف بی آر نے کبھی اپنی ماہانہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ اس نے کتنی رقوم واپس کرنی ہیں۔ مالی سال کے اختتام پروصول ہونے والے ریونیو سے قابلِ واپسی رقوم منہا کرنا ہوتی ہیں تاکہ اصل ریوینو کا علم ہوسکے۔ ایف بی آر صرف اصل ریفنڈ کی جانے والی رقوم کو ہی منہا کرتا ہے جبکہ ریفنڈ کی جانے والی رقوم کی قدر میں اضافے کو بھی نوٹ کیا جانا چاہیے تاکہ مالی سال کے دوران وصول ہونے والے ریوینو کی اصل رقم سامنے آسکے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اگرچہ مسٹر اسحاق ڈار ایک تجربہ کار چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں لیکن اُنھوں نے بھی اس معاملے کو نظر انداز کردیا۔ اس کا مطلب ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں، جیسا کہ آئی ایم ایف، عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کو من پسند ریونیو کی رپورٹ دکھا کر اپنے لیے مزید مالی فوائد حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ایف بی آر خود اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتا جب تک اسے حکومت کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔
گزشتہ کئی برسوں سے ایف بی آر بجٹ میں طے شدہ تو درکنار، ٹیکس کی وصولی کے نظرِ ثانی شدہ اہداف حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام پرایف بی آرصرف 2275 بلین روپے ٹیکس وصول کرسکا جبکہ بجٹ میں طے شدہ ہدف 2475 بلین روپے اور نظرِ ثانی شدہ ہدف 2345 بلین روپے تھا۔ حاصل شدہ رقم میں بھی کئی بلین روپے ریفنڈ کے بھی ہیں۔ اس میں بنکوں، بڑی کمپنیوں اور پبلک سیکٹر سے ایڈوانس میں وصول کیا گیا ٹیکس بھی شامل ہے۔ ایف بی آر کمپنیوں اور ان سے وابستہ افراد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اگلے مالی سال کے لیے بھی انکم ٹیکس قسطوں میں ادا کردیں۔ زیادہ فنڈزنکلوانے کے لیے ایف بی آر نے ایس آر او(Statutory Regulatory Orders) کے ذریعے، پارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر فنڈز وصول کرنا شروع کردیے۔ اس نے SRO 420 کے ذریعے سٹیل ری رولنگ کرنے والی ملوں کے بجلی کے نرخوں میں چار روپے فی یونٹ سے سات روپے فی یونٹ اضافہ کردیا ۔ اس کے علاوہ شپ پلیٹس پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 5,862. روپے فی ٹن سے 6,700 روپے فی ٹن کردیا۔
انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی ریفنڈ کو بلاک کرتے ہوئے ایف بی آر نے کسی طور ہدف پورا کردیا۔ 23 اپریل 2014 کو چیئرمین ایف بی آر نے سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے مالیاتی امور کے سامنے تسلیم کیا کہ ریفنڈ کیے جانے والے 97 بلین روپے بلاک کیے گئے ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ ایف بی آر کے چیئرمین نے ایسا اعتراف کیا ہو۔ 2005 میں بھی اس وقت کے چیئرمین ایف بی آر نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو بتایا کہ بلاک کیے گئے 321 بلین روپے تیس جون 2005 تک واپس نہیں کیے گئے ۔ اُنھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 2004-05 کے مالی سال میں ظاہر کی گئی ٹیکس وصولی کی سٹیٹ منٹ میں بیس بلین روپے ایڈوانس کے بھی شامل تھے۔ یہ بھی الزام لگا یا جاتا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر نے ریفنڈ کے جو97 بلین روپے بلاک کرنا تسلیم کیا تھا ، وہ ایک سو پچاس بلین سے کم نہیں ہوں گے کیونکہ سینٹ کی کمیٹی ایسے معاملات کی باریکی کو نہیں سمجھتی۔ ان معاملات کی چھان بین کا واحد حل یہ ہے کہ آزاد ذرائع سے ایف بی آر کا آڈٹ کرایا جائے ۔ امید کی جاتی ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن اس معاملے پر غور کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔
اعداد وشمار کا کھیل 2005 یا 2014 تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر سال ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ اگر 2005 میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چیئرمین ایف بی آر کے خلاف کاروائی کرتی تو ہوسکتا ہے کہ آج معاملات قدرے بہتر ہوتے۔تاہم کاروائی کرنے کی بجائے ہر سال فرائض سے غفلت برتنے والوں کو ایوارڈز دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔اس طرح صرف حکومت ہی نہیں ، مجموعی طور پر پارلیمنٹ کو قصور وار ٹھہرایا جانا چاہیے کہ اس کی وجہ سے ایف بی آر کو اعداد وشمار کے ساتھ ہیراپھیری کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔
دراصل ایف بی آر کی ’’شاندار کارکردگی‘‘ کے پیچھے ہیراپھیری، دھوکا دہی اور اعدادوشمار کا کھیل کارفرما ہوتا ہے۔ قومی سطح پر اس طرح کی دروغ گوئی جرم کے زمرے میں آتی ہے۔ اس سے عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب نظر آتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک ، حکومت کے معاملات میں شفافیت عنقا ہے تو ان کا ریاستی اداروں سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ایف بی آر کے اعلیٰ افسران اور ان کے سیاسی سرپرست اس طرح کے غلط امور میں ملوث ہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں مالیات کے معاملے میں اس طرح کے چکمے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی تازہ ترین مثال ٹیکس ریونیو میں سولا فیصد اضافے کی نوید ہے۔ یہ بھی مسٹر ڈار اور ان کی وزارت کے ہونہار افسران کا شاہکار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فنانس منسٹری اور ایف بی آر کی ٹیم ایسے داؤ پیچ آئی ایم ایف کی آنکھوں کے سامنے آزماتی ہیں، لیکن وہ اتنے معصوم اور سادہ دل لوگ ہر گز نہیں ہیں۔ اس لیے ایسے معاملات سے عالمی سطح پر قوم کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔
اب بات یہ ہے کہ ایف بی آر کی ساکھ بری طرح مجروع ہوچکی ہے۔ اس کی طرف سے پیش کیے جانے والے اعدادوشمار کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے وقت آگیا ہے کہ اسے تحلیل کرتے ہوئے نیشنل ٹیکس اتھارٹی کیک نام سے ایک نیا اور خود مختار ادارہ قائم کیا جائے ۔ اس ادارے کو بھاری بھرکم سرکاری افسران کی بجائے مالیاتی امور کے پیشہ ور ماہرین چلائیں۔2013-14 کے مالی سال میں ایف بی آر کی طرف سے وصول شدہ ٹیکس 2260 بلین روپے تھا ۔ اس میں سو بلین روپے کے ریفنڈ کی بلاک شدہ رقوم اور ایڈوانس ٹیکس بھی شامل تھے۔ اس کا بھی چیئرمین ایف بی آر نے اعتراف کرلیا لیکن کسی کا مزاج برہم نہ ہوا۔ غلط اعدادوشمار پیش کرنے اوراس کا برملا اعتراف کرنے پر بھی کسی کو سزا نہیں ملی۔ اس کا مطلب ہے ایف بی آر اگلے سال بھی ایسا ہی کرے گا۔ اعداو وشمار کے کرشمے دکھاتے ہوئے قوم کو مقروض کرنے کی پالیسی جاری رہے گی۔ شاید اسی کا نام سیاست ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایف بی آر نااہلی، بدعنوانی اور جابرانہ رویوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ اپنی قومی خدمت، واجب ٹیکس وصول کرنا اور قومی دولت بڑھانا، میں بری طرح ناکام ہے۔ میں نے ان صفحات میں کئی مرتبہ یہ بات کی ہے کہ اس وقت ، جبکہ پاکستان بہت سے مسائل کا شکار ہے، ایف بی آر کا کرادر نہایت اہم ہوچکا ہے۔ اگر یہ ادارہ ناکام جارہا ہے، تو اسے کسی اور بہتر ادارے سے تبدیل کرلیں۔ اگر ہم نے توانائی کے بحران کا خاتمہ کرنا ہے یا دھشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے یا عوام کو ریلیف دینی ہے تو حکومت کے محصولات میں اضافہ لازمی ہے۔ اعدادوشمار کے کھیل سے کام نہیں چلے گا۔ یہ نازک وقت اس طرح کے شعبدے دکھانے کا نہیں، عملی طور پر ریاست کو تقویت دینے کا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *