کراچی اور کچراخیریت سے ہیں!

SHABBIR SOOMROشبیرسومرو
کراچی میں کچرے کا تیسرا دن بھی خیریت سے گذرگیا۔کسی ایک خاکروب نے بھی ہزاروں کچرہ کنڈیوں، ندی نالوں، سڑکوں گلیوں اور محلوں میں محوِآرام کوڑے کرکٹ، گند کچرے کے ساتھ کوئی چھیڑچھاڑ نہیں کی، الحمدللہ۔سندھ کے سائیں جو آئے دن عجب شوشے چھوڑتے رہتے ہیں، وہ اپنے تین روزہ چیلنج کے احکامات کے عین تیسرے دن کچرے کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے خود دبئی پہنچ گئے، جہاں سنا ہے کہ کوئی کچرہ نہیں ہوتا۔ ہمارے سائیں کی عمرِ عزیز سیاسی دشت کی سیاہی۔۔۔سوری!سیاحّی میں گذری ہے، اس لیے پاکستانی سیاستدانوں والے روایتی مذاق وہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی جو عمر ہوچکی ہے، اس میں آ کے بندہ مذاق ہی کرسکتا ہے، سنجیدگی سے کوئی کام کرناان کے شاستروں میں لکھا ہی نہیں۔اب وہ کچرے کی سیاست سے متعلق مزید ہدایات لینے اپنے شیخ کے حضور میں جا حاضر ہوئے ہیں:
ع دیکھیے گذرتی ہے کیا ’’کچرے‘‘ پہ گُہر ہونے تک!
کچرا اورکراچی لازم و ملزوم ہیں۔ آپ دونوں لفظوں کے حروف دیکھیے تو یہ اندازہ ہوجائے گا کہ واقعہ یہی ہے کہ کراچی سے کچرے کو بے دخل کرنا تجنیسِ حرفی پر خطِ تنسیخ کھینچنے جیسا ہے۔
سائیں سرکار سے جتنے لطیفے، بیانات نما مذاق منسوب کیے جاتے ہیں، اس کا صحیح اندازہ تو سوشل میڈیا کو ملاحظہ کر کے ہو سکتا ہے مگر اب تو ان کے احکامات کی من مانی تشریح، ان کی کابینہ کے ارکان بھی کرنے لگے ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے گزشتہ پیر کو احکامات جاری کیے تھے کہ کراچی شہر کے تمام علاقوں سے کچرا تین دن کے اندر صاف کر دیا جائے۔ اس حکم سے پہلے قائم علی شاہ نے کئی علاقوں کا دورہ بھی کیا تھا، جس میں انہوں نے کچرے کے جابہ جا بکھرے ڈھیروں سے اپنی آنکھوں کی مدھم پڑتی روشنی کو تیز کیا تھا اور سالڈویسٹ کی مختلف’’خوشبوؤں‘‘ سے مشامِ جاں کو معطر کیا تھا۔ تب ان کو احساس ہوا تھا کہ کراچی اور کچرا تقریباً ہم نام ہو گئے ہیں، اس لیے ان کو الگ الگ کرنا ضروری ہے۔ مگر وہ بیوروکریسی اور ماتحت عملہ ہی کیا جو با با جی کی باتوں کو سنجیدگی سے لے اور عمل کرے۔ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ 80سال کے با با کا حافظہ ان کا کتنا ساتھ دے گا کہ وہ تین دن بعد صفائی ہونے نہ ہونے سے متعلق رپورٹ طلب کریں گے؟۔ ویسے بھی ہر چھوٹے بڑے معاملے کی رپورٹ طلب کر نا،اب معمول کی کارروائی ہو چکی ہے، اس کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا۔
یہاں یہ حقیقت بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ سندھ حکومت نے اس بار کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کو کارکردگی دکھانے کے لیے اضافی فنڈز بھی دیئے ہوئے ہیں مگر اس کا کیا علاج کہ ہر جگہ، ہر عہدے اور ہر دفتر میں صوبائی حکمراں جماعت نے اپنے ڈائی ہارڈ کارکنان، چھوٹے موٹے رہنما یا پھر وزیروں، مشیروں اور پارٹی سے متعلق اہم لوگوں کے قریبی عزیز بھانجے بھتیجے بٹھا رکھے ہیں۔ جب کسی کو یوں چکنے عہدے پر براجمان کیا جا تا ہے تو اس سے توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف خود کماکر کھائے گا بلکہ اپنے’’بڑوں‘‘کو بھی چپڑی کمائی میں سے حصہ پہنچاتا رہے گا۔ سرکاری فنڈز کے یوں حصے بخرے ہونگے تو پھر شہری اور عوامی سہولیات میں کیا بہتری آئے گی۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے احکامات میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر تین دن میں شہر بھر سے کچرا صاف نہ ہوا تو کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کے خلاف کارروائی ہو گی۔لیکن وہ تین دن خیر سے گزر گئے اور وزیر اعلیٰ
چوتھے دن کچرا اٹھانے کی رپورٹ ملاحظہ کرنے یا شہر کا دورہ کر کے پوزیشن دیکھنے کے بجائے خود ہی پارٹی چیئرمین کے ساتھ دبئی چلے گئے ہیں۔ یہ سنجیدگی کا عالم ہے! ۔
اوپر ہم کہہ آئے ہیں کہ ان کے احکامات کو ان کی کابینہ کے ارکان بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ سائیں نے جب کراچی شہر کو صاف کرنے کی بات کی تو ان کے وزیر بلدیات نے اس کی تشریح یوں کی کہ وزیر اعلیٰ نے اصل میں کراچی کے وی آئی پی ضلع، جنوبی کو صاف ستھرا کرنے اور اس کی حدود سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کی بات کی ہے!۔
سندھ کا نصیب ایسا ہے کہ یہاں خاکروب سے وزیر اعلیٰ تک کوئی بھی اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کرنے کو تیار نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شہر بھر کو کچرا کنڈی میں بدل دینے پر وزیر بلدیات، کمشنر کراچی، کے ایم سی افسروں، ایڈمنسٹریٹروں اور دیگر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جاتی مگر جہاں چپراسی سے چیف تک صرف اپنے اپنے پیٹ کی سنتے ہوں، وہاں ایسا کون سا کر دار ہو گا جو ایمانداری سے اپنے حصے کا کام انجام دے گا ۔
آج کا’’قومی‘‘میڈیا بے شک اپنی آبائی روش ہر عمل کرتے ہوئے کراچی کو بقیہ سندھ سے الگ کر کے پیش کر تا ہو، کراچی کے علاوہ جو سندھ کے اضلاع ہیں، ان کو’’اندرونِ سندھ‘‘ کا نام دے کر ان کے مسائل کو نظر انداز کر تا ہو مگر سندھی( ریجنل یا دیہاتی!)میڈیا اتنا تیز ہے کہ پورے سندھ کے مسائل اچھی طرح اجاگر کر تا رہتا ہے۔ سائیں سرکار کے اپنے ضلع خیر پور کا کیا حشر ہے؟جن شہیدوں کے نام پر پی پی پی اقتدار کو اپنا حق سمجھ کر ہر بار حکومت ہتھیا لیتی ہے، ان کے لاڑکانہ شہر کو کس طرح موہن جو دڑوبنا دیا گیا ہے۔دادو کو کرپٹ رہنما یانِ پارٹی کے حوالے کر کے کیسے کھنڈر کی صورت چھوڑ دیا گیا ہے۔حیدر آباد،میر پور خاص اور ٹنڈوالہ یار جیسے اہم شہروں کو متحدہ والوں کی ہمدردی کے مراکز قرار دے کرمحروم رکھا جا رہا ہے۔۔۔یہ سب کس کے کھاتے میں جائے گا؟ظاہر ہے کہ یہ سب انہی حکمرانوں کی نا اہلی ہے۔ یہ ان کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ان کی یہ نا اہلی، غفلت اور ظلم و زیادتی سندھ کے بین الاقوامی شہر کراچی سے لے کر قبائلی تنازعات کے شکار کشمور تک، سمندر میں آہستہ آہستہ غرق ہوتے ہوئے کیٹی بندر، بدین سے لے کر تھر کے سرحدی گوٹھ راہمکی بازار تک نظر آتی ہے۔سندھ کے لوگ اس لیے صبر کیے بیٹھے ہیں کہ ان کے پاس کوئی متبادل قیادت ابھرنے نہیں دی گئی۔ قوم پرست، این جی اوز اور سول سوسائٹی کے کارندے بھی ایک طرح سے ’’ پی پی پی‘‘یعنی پیٹ پالو پارٹی بنے ہوئے ہیں۔یہ لوگ بھی صحت، صفائی، تعلیم، امپاورمنٹ، سوشل موبلائزیشن اور دیگر بھاری بھر کم، جاذب توجہ ترکیبوں اور ٹرمنا لوجی سے ککھ پتی سے لکھ پتی بن چکے ہیں۔
ایسے ماحول میں کراچی سے کچرا اٹھانے اور اس کی رپورٹ طلب کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ اندر کی بات یہ ہے کہ سندھ کے حکمراں سندھ کے لوگوں کے ساتھ کچھ بھی اچھا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ خاص طور پر وہ کوئی بھی ایسا کام قطعی نہیں کرتے، جس میں سرکاری پیسہ استعمال ہو تا ہو۔۔۔ کیونکہ سرکاری خزانے پر صرف اور صرف ان کا، ان کے عزیز و اقارب کا ،پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کا حق ہے۔حق بہ حقدار رسید!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *