ن لیگ نے مخالفین کو شکست کی دھول چٹا دی

 عبدالرزاق
abdul razaq
آزاد جموں وکشمیر میں ہونے والے الیکشن میں توقع کی جا رہی تھی کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان بھرپور مقابلہ ہو گا اور ن لیگ کے لیے میدان مارنا ہرگز آسان نہ ہو گا ۔ بالخصوص ن لیگ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے دار مقابلہ کی توقع تھی لیکن ان اندازوں کے برعکس ن لیگ نے واضح مارجن سے حریف سیاسی جماعتوں کو شکست کی دھول چٹا دی ۔تا دم تحریر غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن 41 سیٹوں میں سے 32نشستوں پر فتح سمیٹ چکی تھی جبکہ عوامی مقبولیت کی دعویدار تحریک انصاف اور زوال پذیر پیپلز پارٹی کے حصہ میں 2،2نشستیں آئیں ۔علاوہ ازیں مسلم کانفرنس نے3 سیٹوں پر کامیابی سمیٹی اور یوں وہ کامیابی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر رہی ۔
مذکورہ نتایج کو دیکھتے ہوے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ن لیگ آج بھی ملک کی مقبول ترین جماعت ہے اور اس کے حریف مقبولیت کے میدان میں اس سے کوسوں دور ہیں ۔تحریک انصاف کے بیرسٹر سلطان محمود جو گذشہ 35سال سے ناقابل شکست چلے آ رہے تھے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے میدان میں کودنے پر شکست کھا گئے ۔ بیرسٹر سلطان محمود کی شکست جہاں تحریک انصاف کی قیادت کے لیے ایک جھٹکا ہے وہیں اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ عوام پارٹی بدلنے کے رحجان کو ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔میاں نواز شریف کا عارضہ دل میں مبتلا ہونے اور غیرمتحرک ہونے کے باوجود ن لیگ کا دو تہائی اکثر یت سے کامیاب ہو جانا بلاشبہ ان کی عوامی مقبولیت کا مظہر ہے اوران الیکشن کے نتائج سے الیکشن 2013 کے نتائج کی بھی تصدیق ہوتی ہے ۔
آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج جہاں مسلم لیگ ن کے لیے حوصلہ افزا ہیں وہیں دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے برج اس الیکشن میں الٹ گئے ہیں اور محض دو سیٹوں پر فتح حاصل کرنا آزاد کشمیر میں اس کے زوال کی واضح نشاندہی ہے ۔قرین قیاس ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ ن کی مضبوط حریف جماعت پیپلز پارٹی کے بجائے تحریک انصاف ہو گی۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے آزاد کشمیر میں بھی کرپشن کا بازار گرم کیے رکھا اور ان کی کرپشن کہانیاں اخبارات کی زینت بنتی رہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام نے پیپلز پارٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوے اسے اقتدار کے ایوان سے بے دخل کر دیا ۔
تحریک انصاف اس الیکشن میں پہلی مرتبہ اپنی قسمت آزما رہی تھی اور اس نے دو سیٹوں پر فتح سمیٹ کر آزاد کشمیر اسمبلی میں بھی اپنے وجود کا احساس دلا دیا ۔اگرچہ سربراہ تحریک انصاف عمران خان کے بلندو بانگ دعووں کی روشنی میں یہ امید کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف مسلم کانفرنس کے ہاتھوں میں ہاتھ دینے کے بعد ن لیگ کو ٹف ٹائم دے گی لیکن الیکشن نتائج اس توقع کے برعکس رہے بلکہ تحریک انصاف دوسری سیاسی جماعتو ں سمیت ن لیگ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور ن لیگ نے آسانی سے میدان مار کر عوامی پذیرائی پر مہر تصدیق ثبت کر دی
سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عوام اک مدت سے ن لیگ کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اور ہر الیکشن میں میاں برادران کو سرخرو کرتے ہیں اور ان کا سیاسی قد ہر آنے والے الیکشن میں پہلے سے بھی بلند دکھائی دیتا ہے ۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ الیکشن میں جہاں دوسری سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت بھر پور کمپین کر رہی ہوتی ہے وہاں ن لیگ کی دوسرے درجہ کی قیادت ان کا مقابلہ کر رہی ہوتی ہے جیسا کہ عمران خان اور بلاول کے مقابلہ میں پرویز رشید جیسے سیاسی کارکن صف آرا دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ عمل دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے بالخصوص تحریک انصاف جس کو ن لیگ کا مضبوط ترین حریف تصور کیا جاتا ہے اس کے تھنک ٹینک کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور غور کرنا چاہیے کہ بے پناہ کوتاہیوں اور نالائقیوں کے باوجود ن لیگ کس طرح اپنی مقبولیت عوام میں قائم رکھے ہوے ہے اور اس کا توڑ کیا ہے ۔ میری دانست میں ن لیگ ہر فورم پر ناکام دکھائی دیتی ہے ۔ خارجہ پالیسی کو ہی دیکھ لیجیے۔ ہماری خارجہ پالیسی کارکردگی کے میدان میں تاریخی اعتبار سے پست درجہ کو چھو رہی ہے ۔ کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے اس کے باشندوں پر ظلم و بر بریت کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے لیکن ہماری وزارت خارجہ اس مسلہ کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اٹھانے سے قاصر ہے ۔ اسی طرح کوئی ایسا عوامی منصوبہ بھی میری اور میرے ہم وطنوں کی فلاح و بہتری کے لیے ترتیب نہیں دیا گیا جو قابل ذکر اور قابل قدر ہو ۔ آ جا کے ایک اقتصادی راہداری کا منصوبہ نمایاں دکھائی دیتا ہے لیکن اس پر بھی فوج اور حکومت کے درمیان اعتماد کی خلیج حائل ہے ۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب جوں کا توں اپنی جگہ پر موجود ہے ۔ معاشی میدان اور اقتصادی ترقی کی زبوں حالی بھی ماضی کی طرح حکمرانوں کا منہ چڑھا رہی ہے ۔ تعلیم ،صحت اور دیگر اہم شعبے بھی حکمرانوں کی عدم توجہ کا رونا رو رہے ہیں ۔سرمایہ کار دھڑا دھڑ سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں اور بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں ۔ نوجوان طبقہ الگ تذبذب میں مبتلا ہے ملک بھر میں بے روزگارو ں کی فوج تیار ہو رہی ہے اورنوجوانوں کی غالب اکثریت مایوس ہو کر یا تو بیرون ملک کا رخ کر رہی ہے اور یا پھر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کو ترجیح دے رہی ہے ۔گورننس کے مسائل عوام کو علیحدہ پریشان کیے ہوے ہیں ۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔ کرپشن کی ہوشربا داستانیں بھی زبان زد عوام ہیں ۔ ڈاکہ زنی،چوری چکاری اور خواتین کی عزتوں کی پامالی جیسے مکروہ جرائم معاشرہ میں عام ہیں ۔ غریب مذید غریب اور امیر مذید امیر ہو رہا ہے ۔ محنت کش روبہ ذلت ہے ۔ مزدور دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے ۔ طالب علم ہاتھ میں ڈگریاں پکڑے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ کاروبار کے مواقع ناپید ہیں ۔ تاجر پریشان اور عوام اپنے مستقبل سے مایوس ہیں۔ہر چہرہ ہی متفکر اور مضطرب ہے
ان تمام حالات کے باوجود ن لیگ کا انتخابی میدان میں تواتر سے اپنے مخالفین کو ہزیمت سے دوچار کرنا کسی معجزہ سے کم نہیں ۔ قدرت نے عمران خان کے لیے اسباب پیدا کیے تھے کہ وہ ن لیگ کی مقبولیت میں نقب لگا سکے لیکن عمران خان کی ناقص سیاسی منصوبہ بندی کی بدولت وہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ان کے طوفانی انداز احتجاج کو عوام کی اکثریت پسند نہیں کرتی لیکن وہ پھر بھی اپنے اس انداز کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں ۔وہ ایک مرتبہ پھر کمر کس کر اگست کے اوائل میں پاناما لیکس کی تحقیقات کے تناظر میں عوامی اجتماع اور دھرنے کے موڈ میں ہیں جس سے ان کی عوامی مقبولیت میں کمی کے مذید امکانات روشن ہیں ۔عمران خان کو ان کے ہمدرد کئی مرتبہ یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ احتجاجی انداز سیاست چھوڑ کر کے پی کے میں کارکردگی کی جانب توجہ دیں کیونکہ کے پی کے میں نمایاں تبدیلی ہی ان کا رخ اقتدار کی جانب موڑسکتی ہے۔ دراصل ن لیگ کی کامیابی کا راز ہی یہ ہے کہ وہ اندھوں میں کانے راجا ہیں ۔ بدقسمی سے ہمارے سیاستدان بصیرت ،معاملہ فہمی اور دنیا کے بدلتے ہوے تقاضوں سے ہی نآشنا ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *