متاثرین وزیرستان کاالمیہ، کپتان لندن چلے گئے

رؤف طاہرRauf tahir

تادمِ تحریر شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد 8لاکھ کو پہنچ چکی ہے۔ عمران خان کے بقول ان میں بچوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ سرسبزوشاداب وادیوں، خوشگوار و ٹھنڈی ٹھار فضاؤں میں اپنے وسیع وعریض گھروں سے نقل مکانی کر کے بنوں اور اس کے گردو نواح کی قیامت خیز گرمی میں چلے آنے والے قبائلیوں کو جن مسائل کا سامنا ہے ، انہیں انسانی المیے کا عنوان دینے میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔
خیبر پختونخوا میں عمران کی تحریک ِ انصاف کی حکومت ہے لیکن آئی ڈی پیز کے مسئلے کو وہ وفاق کا مسئلہ قرار دیتا ہے، اپنے تازہ بیان میں تواس نے اس مسئلے کا ذمہ دار بھی نواز شریف کو قرار دے دیا اور اس تلقین کا اعادہ بھی فرمایا کہ نوازشریف اس انسانی المیے پر سیاست نہ کریں۔ ہم نہیں سمجھ سکے کہ نوازشریف اس المیے پر کیا سیاست کررہے ہیں؟15 روز قبل وہ آئی ڈی پیز کے مسائل کا بچشمِ خود جائزہ لینے بنوں جارہے تھے۔ انہوں نے عمران خاں کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی، عمران نے انکار کردیا اور بہاولپور کے جلسۂ عام میں جواز یہ پیش کیا کہ نوازشریف آئی ڈی پیز کے کیمپوں میں میرے ساتھ تصویر بنوانا چاہتے تھے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ (شمالی وزیرستان آپریشن) پوری قوم کا مسئلہ ہے، لیکن عمران خاں کا تعلق اس حوالے سے بھی خاص ہے کہ وہ خود کو ’’غیرت مند پٹھانوں ‘‘میں شمار کرتا ہے۔ ایک دور میں تو وہ اس حوالے سے اتنا جذباتی تھا کہ اپنی شریک حیات کے لیے بھی پٹھان ہونا لازم قرار دیتا۔ 1982 میں انگلستان میں یہ پاکستان کا دوسرا ٹیسٹ تھا۔ ڈیلی مرر کے لیے عمران سے انٹرویو میں نورین ٹیلر کا ایک سوال اس کی شادی کے متعلق بھی تھا۔ جس پر عمران کا جواب تھا، آپ لوگوں کے لیے اپنے وطن سے میری وابستگی کو سمجھنا نا ممکن ہے۔ میں ایک پاکستانی ہی نہیں، ایک پٹھان بھی ہوں۔ وہ پٹھان جسے برطانوی راج زیر نہ کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ میں کسی ایسی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا جو پٹھان نہ ہو(یہ انٹرویو جنگ کے مڈویک ایڈیشن 25اگست 1982میں ری پروڈیوس ہوا)۔ لیکن عمران کے یہ جذبات 82ء کے تھے۔
ہمارے خیال میں عمران ایک آئیڈیلسٹ سے زیادہ ایک پریگمیٹک انسا ن ہے۔ اس نے تبدیلی کے خواب دے کر نوجوانوں کو اپنے گرد جمع کیا۔ اس کا دعویٰ تھا، وہ قوم کو نیا پاکستان دے گا، جس میں موروثی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ ’’روایتی سیاستدانوں ‘‘ کو وہ چور، ڈاکو، بے ایمان اور بدعنوان قرار دے کر قوم کو ان سے نجات دلانے کے وعدے اور دعوے کرتا۔ 30اکتوبر2011 کے سونامی جلسے کے بعد موروثی اور روایتی سیاست کی ساری علامتیں اس کے گرد جمع ہونے لگیں(تب کہا گیا کہ اس میں اصل اشارہ جنرل شجاع پاشا کا تھا۔ چودھری برادران نے جنرل کیانی سے ملاقات میں اس کے ثبوت بھی پیش کر دیئے تھے)۔پارٹی الیکشن میں بھی اکثر مقامات پر ان ہی کا غلبہ ہوگیا، 2013 کے انتخابات میں بھی بیشتر ٹکٹ یہی لے اُڑے۔ ابن الوقتوں اور موقع پرستوں کے لیے تحریک انصاف کے دروازے چوپٹ کھول دینے پر ایک اخبار نویس نے پوچھا، آپ کا تبدیلی کا نعرہ کیا ہواـ؟ تو عمران کا جواب تھا، کرپٹ معاشرے میں فرشتے کہاں سے لاؤں؟
سی طرح کا سوال گزشتہ شب علیم خاں کے عشائیے میں ایک ستم ظریف نے پوچھ لیا۔ ایک وقت تھا، عمران خاں گجرات کے چودھریوں کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔ وہ انہیں پنجاب کا سب سے بڑا چور اور ڈاکو قرار دیتے۔
وہ 2002 کی اسمبلی میں تحریکِ انصاف کے اکلوتے ممبر تھے(’’شیخ الاسلام‘‘ کا معاملہ بھی یہی تھا۔ ان دونوں نے وزارتِ عظمیٰ کی اُمید پر الیکشن لڑا تھا۔ آنکھوں میں یہی سپنے سجائے انہوں نے ریفرنڈم میں ڈکٹیٹر کی بھرپور حمایت کی تھی، لیکن وزارتِ عظمیٰ ڈکٹیٹر نے قاف لیگ کی جھولی میں ڈال دی کہ چودھریوں نے اس کے لیے زیادہ بڑے سیاسی اثاثے کا اہتمام کر دیا تھا۔ عمران خاں جب کبھی اسمبلی کا رُخ کرتا، اس کے ہاتھ میں پانچ، سات فائلیں ہوتیں۔ وہ اسمبلی کیفے ٹیریا میں اخبار نویسوں کے سامنے یہ فائلیں کھولتا اور بتاتاکہ چودھریوں نے کس کس بینک سے کتنے کتنے قرضے معاف کرائے ہیں؟
گزشتہ روز شاہ محمود قریشی ، چیئرمین کا پیغام لے کر چودھریوں کے ہاں حاضر ہوئے۔ کہا جاتا ہے ایک پیغام ’’شیخ الاسلام‘‘ کے لیے بھی تھا۔ اِدھر شاہ محمود قریشی رخصت ہوئے، ادھر چودھری برادران ’’شیخ الاسلام‘‘ کے آستانۂ انقلاب کی طرف روانہ ہوگئے۔ علیم خاں کے عشائیے میں بد لحاظ اخبار نویس کا اشارہ اسی طرف تھا،’’ آپ چودھری برادران کو پنجاب کا سب سے بڑا چور، قاتل اور ڈاکو قرار دیتے رہے ہیں‘‘، عمران کو اس پر کوئی ندامت یا خجالت نہیں تھی۔ ہنستے ہوئے اس کا کہنا تھا: چور ، ڈاکو اور قاتل بھی اگر میرے ایجنڈے پر آتے ہیں، تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
عمران خاں نے نواز شریف کو آئی ڈی پیز کے انسانی مسئلے پر سیاست نہ کرنے کی تلقین کی ہے، ایسے شخص کے منہ سے یہ تلقین ہمیں بہت دلچسپ لگی جس نے اپنی سیاست کا محور ہی شوکت خانم ہسپتال کو بنایا۔انسانی خدمت کے اس منصوبے میں اندرون و بیرون لوگوں نے حسبِ توفیق حصہ لیا، اِ ن میں کروڑ پتی بھی تھے جنہوں نے لاکھوں دیئے اور وہ خوانچہ فروش بھی جو صرف پانچ، دس روپے دینے کی استطاعت رکھتے تھے۔ سکولوں کے لاکھوں بچوں نے بھی اپنی پاکٹ منی اس کارِ خیر کی نذر کر دی ۔ نوازشریف (تب وزیراعلیٰ ) نے پندرہ ایکڑ زمین عطیہ کی۔ اس میں پانچ ایکڑ کا اضافہ غلام حیدر وائیں(مرحوم) نے کر دیا۔شریف فیملی اپنی جیب سے جو کنٹری بیوٹ کرتی رہی، وہ الگ کہانی ہے۔ شہباز شریف نے جلاوطنی کے دور میں بھی 25 لاکھ روپیہ بھجوایا۔ عمران خاں نے سرور پیلس جدہ آکر اس کا شکریہ ادا کیا۔ اپریل 1991 میں وزیراعظم نوازشریف نے شوکت خانم کا سنگِ بنیاد رکھا۔ تب عمران خاں سیاست کا لفظ سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگانا تھا۔ وہ دُکھی انسانوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین ٹھہراتا۔ شوکت خانم کے بعد وہ تعلیمی انقلاب کا منصوبہ بنا رہا تھا کہ سیاست کی طرف نکل آیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے قیام کے اعلان کے بعداس نے پہلا انصاف نوازشریف کے ساتھ کیا کہ شوکت خانم ہسپتال کا ان کے نام والا سنگِ بنیاد اُکھاڑ پھینکا۔
شمالی وزیرستان آپریشن اور آئی ڈی پیز کے مسائل پر وزیراعظم نوازشریف متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ گزشتہ روز آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پرائم منسٹر ہاؤس میں انہیں مفصل بریفنگ دی۔
اس المیے کی ذمہ داری نوازشریف پر ڈال کر عمران خاں گزشتہ روز لندن روانہ ہوگئے۔ ہلکان کر دینے والی گرمیاں وہ پہلے بھی یورپ کی ٹھنڈی ٹھار فضاؤں میں گزارتا تھا اور اب تو اس کے پاس بچوں سے ملاقات کا جواز بھی ہے جو لندن میں اپنی والدہ جمائما اور نانی انابیل گولڈسمتھ کے پاس ہوتے ہیں۔یہ تو ویسے بھی رمضان کا مہینہ ہے، زکوٰۃ و صدقات کا مہینہ۔ کہاجاتا ہے، عمران اس دوران شوکت خانم کے لیے فنڈ ریزنگ بھی کرے گا۔ یادآیا، شوکت خانم کے ان تین ملین ڈالروں کا کیا ہوا، جو عمران خاں کے دوست امتیاز حیدری کی کمپنی میں انویسٹ کئے گئے تھے اور ڈوب گئے۔تب عمران نے کہا تھا ، یہ رقم واپس نہ ہوئی تو وہ زمان پارک کا گھر بیچ کر یہ رقم شوکت خانم کے فنڈ میں جمع کرادے گا۔
پس نوشت:۔ گزشتہ کالم میں ہم نے ’’شیخ الاسلام‘‘ کے اس دعوے کی یاددہانی کرائی تھی کہ وہ شمالی وزیرستان کی 30ہزار فیملیز کے لیے خوراک کے بیگ بدستِ خود تقسیم کریں گے۔ تازہ خبر کے مطابق ’’شیخ الاسلام‘‘ نے 14ٹرک روانہ کردیئے ہیں، ان میں کتنے خاندانوں کے لیے کیا کچھ ہے؟ اس کی تفصیل منظر عام پر نہیں آئی۔ 30ہزار خاندانوں کے لیے صرف 14ٹرک ؟ یہ تو اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہوئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *