دو اور دو اکٹھے

اشعر رحمٰنAsha’ar Rehman

قسمت میں لکھی ایک ملاقات ہی سہی۔ پھر بھی یہ ایک چھوٹا سا اتفاق ہی تھا کہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہٰی ابھی گھر پر ہی تھے جب شاہ محمود قریشی، بدھ کو ان کے گھر کے دروازے پر پہنچے۔
ان دنوں، دونوں چودھری کزنز، ماڈل ٹاؤن میں علامہ طاہر القادری کی رہائش پر زیادہ خوش رہتے ہیں، پرجوش انداز میں سپرد کردہ مال تجارت وصول کرتے ہیں اور پھر سودے کو تولتے ہیں، جیسا کہ تمام منجھے ہوئے اور اچھے فارورڈنگ ایجنٹ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر قادری وہ تازہ ترین پڑاؤ ہیں کہ جہاں ان کی اعداد کی تلاش انہیں لے گئی ہے اور ناگزیر انقلاب کے لئے دستخط تو انہوں نے پہلے ہی کر دئیے ہیں۔
اگر پاکستان عوامی تحریک وہی کچھ تھی کہ جس کا وہ انتظار کر رہے تھے تو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے یہ اعتراف کہ قریشی کادورہ انہیں لے آیا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ یہاں کچھ بڑا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گجرات سے تعلق رکھنے والے یہ دو شرفاء، ایسی قیادت رکھتے ہیں کہ جسے وہ کسی بھی ایسے شخص کو فراہم کرنے کے شدید خواہش مند رہتے ہیں کہ جس کے پاس بصارت،اورعوام کی بڑی تعدادہو۔مشرف کے بعد کے زمانے میں اس ضمن میں ان کی پہلی گاہک،پاکستان پیپلز پارٹی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت، اپنے اتحادیوں کے طور پر چودھریوں کے نخرے اٹھانے کی اس قدر شوقین تھی کہ اس نے ان کی خاطر بالخصوص گجرات اور بالعموم سارے پنجاب میں اپنے عہدیداروں کو بھی ناراض کر دیا۔
یہ ایک ایسا اتحاد تھا جو شروع ہی میں تباہ ہو گیا اوراب جب چودھری شجاعت اپنے دیگر گزشتہ تعلقات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پہلے کی طرح آگے نہیں آرہے ہیں، وہ یہ تسلیم کرنے میں بھی دوٹوک ہیں کہ پی پی پی کے ساتھ ان کا انتخابی اتحاد ایک بہت بڑی غلطی تھا۔
اس غلطی کے بعد،اور اس قدر گھمبیرنتائج کے حامل گزشتہ انتخابات سے لے کر اب تک انہوں نے پی پی پی اور پی ایم ایل کیو کے اکٹھے ہونے کو تاحال موضوع نہیں بنایا، لیکن 2013ء کے انتخابات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ق لیگ گزشتہ حکمران اتحاد سے اپنے لئے وہ فوائد اخذ کرنے میں ناکام رہی جن کی وہ توقع کرتی رہی تھی۔
یہاں امکانات بہت واضح ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ راستہ یقیناً سخت تر ہوگیا ہے۔ چودھریوں کی زیر قیادت،ق لیگ اپنی بنیاد پنجاب سے گزشتہ انتخابات میں ہمیشہ کے لئے مٹ گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ پی ٹی آئی کی مدد کے حصول کے لئے بے قرار ہے۔ پی ٹی آئی وہ اکلوتی جماعت ہے کہ جو پی ایم ایل این کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اپنی اہمیت پر اندھے اعتماد کے سبب اور کسی تنہا یا آزاد سوار کو بے سبب جگہ دینے کی خواہش نہ رکھتے ہوئے، اس نے ق لیگ کی جانب سے ملنے والے مثبت اشاروں کا مثبت جواب دینے میں کچھ وقت لگایا ہے۔
البتہ، پی ٹی آئی اور پی ایم ایل کیو، دونوں کے فطری اتحادی ہونے کے الزامات کے سبب، عمران خان محتاط رہے ہیں، اس نظام کوبرقرار رکھنے کے لئے چودھریوں کی جانب سے ملائے گئے حصے کے متعلق وہ جلدی جلدی میں بات کو ختم کردینا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے نائب صدر شاہ محمود قریشی کی بدھ کے روز کی ملاقات ظاہر کرتی تھی کہ اب عمران پہلے سے اپنے ذخیرے میں موجود اس اتحادی کی صلاحیتوں کو جانچنا چاہتے ہیں، بدلے میں پی ایم ایل کیو کے دو رہنماؤں سے وعدہ کرتے ہوئے کہ مارچ کے عین وسط میں ایک حقیقی اور بھرپور ایکشن ان کا منتظر ہو گا۔
اگراس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ اب تک پی ٹی آئی، پی ایم ایل کیوسمیت سب کی مزاحمت کرتی آئی تھی، مگر اب وہ ان سب کو ساتھ ملا کر چلنا چاہتی ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران خان، میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف سنجیدہ اور براہ راست قدم اٹھانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، یہاں پی پی پی، مولانا فضل الرحمٰن اور دوسرے کھلاڑیوں کو شامل کرتا ہواسرگرمی کا ایک اور جھونکا بھی موجود ہے۔۔۔ جو یہ یقین دہانی کراتا ہے کہ کوئی بھی اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کے مارچ کی دھمکیوں کو ہلکا نہیں لے رہا۔
یہ نکتہ چودھریوں کے لئے ایک حقیقی موقع ہے۔ان کے پاس نہ تو اتنے مرید ہیں، جتنے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے زیر اطاعت ہیں اور نہ ہی پارلیمان میں اس قدر موجودگی ہے جتنی کہ پی ٹی آئی کی ہے۔ انہیں یوں تاثر دینا چاہئے جیسے گویاکہ وہ رہنما ہوں اور یقین رکھنا چاہئے کہ وہ نقشہ جس کے مطابق وہ پارٹیوں سے کچھ حاصل کرنے پر اکڑتے رہے ہیں، وہ اپنے حجم میں بہت بڑا ہے اور اب بھی انہیں پرانی اور مانوس منزل کی طرف لے جا ئے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *