بریانی ایران سے برصغیر تک کیسے پہنچی؟

اپنی خاص خوشبو اور ذا‏ئقے کے لیے معروف بریانی برصغیر کے خاص پکوانوں میں سے ایک ہے جو مختلف علاقوں میں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے۔ بھارتی مؤرخ اور کھانے کے ماہر پشپیش پنت مانتے میں کہ انڈیا میں بریانی کو نوابی کھانے کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی خوشبو بے مثال ہے اور بریانی اپنے آپ میں ایک مکمل کھانا ہے۔ 400 برس قدیم انڈيا کا شہر حیدر آباد صرف اپنے چار مینار کے لیے ہی نہیں بلکہ حیدر آبادی بریانی کے لیے بھی کافی مشہور ہے۔ بریانی اب ایک مقامی پکوان ہے لیکن اس کے باوجود لوگ پوچھتے ہیں کہ ’یہ کہاں سے ہندوستان آئی اور کب آئی؟‘

کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ اس کا جنم ہندوستان میں ہوا۔ ان کا دعوی ہے کہ وسطی ایشیا کے پلاؤ کو یہاں کے لوگوں نے بریانی کی شکل دی۔ لیکن اس پر یقین کرنا ذرا مشکل امر ہے۔ پلاؤ اور بریانی دو مختلف چیزیں ہیں۔ ان کا ذائقہ بھی جدا جدا ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ بریانی ایران سے آئی ہے۔ بریانی نام اصل میں فارسی لفظ ’برنج بريان‘ سے نکلا ہے۔ اس کا مطلب ہے بھنے ہوئے چاول۔ ایران میں بریانی کو دیگ یعنی دم کیاجاتا ہے یعنی اسے دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے۔

دھیمی آنچ پر کافی دیر تک مصالحے میں لپیٹے ہوئے گوشت کو اس کے اپنے ہی رس میں پکنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ اس میں چاول کی تہہ ہوتی ہیں اور خوشبودار مسالے بھی ہوتے ہیں۔ بھارت میں اسلامی کھانوں کی ماہر سلمیٰ حسین بتاتی ہیں کہ دور حاضر کے ایران میں سڑکوں پر فروخت ہونے والی بریانی میں اب چاول کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔ اب اس کی جگہ پر گوشت کے ٹکڑوں کو رومالي روٹی میں لپیٹ کر پکایا جانے لگا ہے۔ لیکن یہ ڈش دراصل ہندوستان میں پروان چڑھی جہاں اس کی رنگ برنگی اور متنوع تاریخ ہے۔

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بریانی پہلی بار ہندوستان میں مغلوں کے ساتھ آئی۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ زائرین، فوجی خاندانوں اور بعض رہنماؤں کے ساتھ جنوبی ہندوستان آئی۔ بعد میں یہ ڈش جن مختلف مقامات پر پہنچی اسی مناسبت سے مقامی ذائقے اس میں مربوط ہوتے گئے۔ کیرالہ کو ہی لے لیجیے، یہاں مالابار یا موپلا بریانی ملتی ہے۔ کئی بار تو اس میں گوشت یا چکن کی جگہ مچھلی یا جھینگوں کا استعمال ہوتا ہے۔ یہاں مصالحے تیز ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں پڑنے والے مواد سے حیدرآبادی خوشبو ضرور آتی ہے۔ انڈین ریاست مغربی بنگال میں ملنے والی بریانی، بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ملنے والی بریانی کے ذائقے سے ملتی جلتی ہے۔ یہ بھی بہت مقبول ہے۔

یہ خیال غلط نہیں ہوگا کہ کولکاتہ شہر میں بریانی سمندر کے راستے سے آئی جہاں کبھی نوابوں کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ وہیں بھوپال میں بریانی شاید دراني افغانوں کے ساتھ آئی، جو کبھی احمد شاہ ابدالی کی فوج کا حصہ رہے تھے۔ بھوپال کی بریانی کافی دم دار ہوتی ہے۔ اس کی انوکھی خوشبو بہت پر کشش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آج کل مرادآبادی بریانی اچانک انڈین دارالحکومت دہلی میں کافی فروخت ہونے لگی ہے۔ راجستھانی بریانی کی سب سے بہترین مثال دیگ ہے۔ یہ اجمیر میں خواجہ غریب نواز کی درگاہ کی زیارت کرنے والوں کے لیے خاص طور پر تیار کی جاتی ہے۔

لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ انڈيا میں لوگ اب بھی بریانی کے حقیقی ذائقے سے بے خبر ہیں۔ زیادہ تر جگہوں پر ملنے والی بریانی کو صرف ’کڑھائی بریانی‘ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں لمبے چاول تو ہوتے ہیں اور زرد رنگ بھی ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی بریانی سے یہ بلکل مختلف ہے۔ بڑے ہوٹلوں یا اچھے کھانے کے ریستوران میں بھی اسے روایتی طریقے سے نہیں پکایا جاتا ہے۔ ہم کتنی آسانی سے بھول جاتے ہیں کہ ایران ہمارے ملک کے کتنے قریب ہے اور صرف فارسی زبان ہی دونوں ممالک کی مشترکہ وراثت نہیں ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *