کشمیر الیکشن میں کشمیر غائب تھا

  اعزاز احمد کیانی 

aizaz ahmed kiani

دنیا  میں مختلف ادوار میں مختلف نظام ہائے حکومت پیش کیے جو مختلف مکتب فکر کے لوگوں کے لیے کشش بھی رکھتے تھے  اور مختلف ادوار میں مختلف ممالک میں رائج بھی رہے ۔ انہی نظاموں میں سے ایک نظام جمہوریت بھی ہے  جو  اس وقت دنیا کے  اکثر ممالک  میں رائج ہے۔ جمہوریت کو عوامی حکومت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اسلیے کے جمہوریت میں عوام کو اپنے نمائندے چننے کا اختیار ہوتا ہے۔ الیکشن سسٹم ہی وہ اصل شہ ہے جو جمہوریت کو  دوسرے نظاموں سے ممتاز کرتا ہے۔ جمہوری نظام میں ایک چیز اور بھی جو  اس نظام کو  دوسرے نظاموں سے ممتاز کرتی ہے  اور وہ جماعتوں کا منشور ہے۔ جمہوری نظام میں  کسی شخص یا فرد کی ذات کے بجائے  نظریے اور منشور کو ووٹ دیا جاتا ہے اور امیدوار بھی قریبی رشتے اور برادری کے بجائے  منشور کو عوام پر پیش کرتے ہیں  لیکن افسوس کے ہمارے ہاں نطریاتی سیاست کی جگہ روایتی سیاست  نے لے لی ہے  جس میں منشور اور نظریہ کا دور دور تک کوئی نشان  تک نہیں ہے۔
آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابا اگرچہ گزشتہ انتخابات سے قدرے مختلف تھے  لیکن جماعتوں اور امیدوارں کا انداز سیاست روایتی ہی رہا۔ کشمیر دنیا کا ایک ایسا خطہ ہے جو اپنے حتمی مستقبل کا سالوں سے  منتظر ہے ۔ کشمیر وہ واحد خطہ ہے جس پر بیک وقت تین طاقتیں مختلف شکلوں میں اقتدار قائم کیے ہوئے۔ کشمیر کا مستقبل ایک طرف تو یو این او اور عالمی برادری  کی فائلوں اور قرارادوں   میں الجھا پڑا ہے ، دوسری طرف ہندوستان اور پاکستان کے  مزکراتی پالیسیوں  اور دو طرفہ تعلقات کو   موضوع بحث ہے اور تیسری طرف لاکھوں کشمیریوں کے خون کی بوندوں  میں اپنا سفر طے کر رہا ہے  مگر اس کے باوجود آزادی کے بیس کیمپ ( آزاد کشمیر) میں ہونے والے انتخابات میں  کسی ایک سیاسی جماعت نے کشمیر پالیسی اور مستقبل کشمیر کو اپنا انتخابی منشور میں کوئی جگہ نہ دی ۔  پاکستان جو عالمی عدالتوں اور بین القوامی فورم پر کشمیر کا وکیل ہے   اسکی سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر انتخابات میں  مسلئہ کشمیر کو وہ اہمیت نہیں دی جسکا مسلئہ کشمیر متقاضی تھا۔
اگر سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کا جائزہ لیا جائے تو   صورت حال  بڑی مایوس کن ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری جو پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں نے آزاد کشمیر  کے انتخابات میں اپنی پارٹی کی انتخابی مہم  کے لیے  مظفر آباد، کوٹلی ، میرپور، باغ  روالاکوٹ اور  آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں  کا دورہ کیا بڑے بڑے اجتعمات اور جلسوں کا انعقاد کیا گیا لیکن بلاول  نے کسی ایک جلسے میں مسلئہ کشمیر پر بات نہ کی بلکے  نواز شریف کی ذات ، پانامہ سکینڈل ، نواز شریف کا استعفیٰ  اور نواز موودی تعلقات کو  ہی اپنا موضوع   بنا یا اور  انہی بنیادوں پر عوام سے ووٹ مانگے۔
پاکستان مسلم لیگ نون  کے اہم عہدے داروں  ڈاکٹر آصف کرمانی، پرویز رشید،برجیس طاہر  نے بھی پاکستان ن لیگ کی انتخابی مہم کے لیے  کشمیر  کے اہم اضلاع کا دورہ کیا سیاسی اجتماعت سے خطاب بھی کیے لیکن    ان حضرات نے بھی آزاد کشمیر کی  موجودہ حکومت کی کرپشن ، طاقت کا ناجائز استعمال اور حکومتی اور سرکاری بے ضابطگیوں  کو ہی موضوع گفتگو بنایا  ۔کیا ہی اچھا ہوتا پہلے اپنا انتخابی منشور  عوام پر پیش کیا جاتا جس میں مسلئہ کشمیر کا پر امن، پائیدار اور مستقبل  حل ہوتا ، کشمیر ریاست کی فلاح اور ترقی کا ایک پورا پلان ہوتا لیکن افسوس  ہماری سیاست  تنقید کی نذر ہو گئی۔
پاکستان تحریک انصاف  کے چئیر مین جناب عمران خان نے بھی باغ ، میرپور سمیت کشمیر  کے  اہم علاقوں میں جلسے کیے لیکن  عمران کا موضوع بھی حسب عادت پانامہ  لیکس، ٹی آر اوز اور نواز شریف ہی رہے ۔
آل  جمعوں وکشمیر مسلم کانفرنس جسے کشمیر  کی ریاستی اور سب سے پرانی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے  نےبر خلاف دوسری جماعتوں کے اس شدت سے انتخابی مہم ہی نہ چلائی لہذا انتہابی مہم کی عدم موجودگی میں منشور کا عوام کے سامنے پیش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جماعت اسلامی پاکستان نے  پاکستانی کی دوسری جماعتوں کے بر خلاف   آزاد کشمیر میں برائے راست کوئی حصہ نہ لیا بلکے  جماعت اسلامی آزاد کشمیر کو  مکمل اختیار دیے رکھا لیکن جماعت اسلامی  نے بھی مسلم کانفرنس کی طرح کوئی خاطر خواہ انتخابی مہم میں حصہ نہ لیا  بلکے  اکثر حلقوں میں اپنے امیدوار ہی میدان میں نہ اتارے۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کشمیر سمیت پاکستان کی تمام سیاسی  جماعتوں کا کشمیر کے بارے میں ایک موقوف ہے اور وہ ہے کشمیر بنے کا پاکستان ۔لیکن   افسوس کی  اس موقف کی حثیت ایک نعرے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔  سوال یہ ہے اس تاثر کو انتخابات کے دوران جس میں عوام سے رابطے عروج پر ہوتے ہیں کتنا عوام کے سامنے پیش کیا ؟سوال یہ ہے  اس  کو عملی شکل  دینے کے کیا اقدامات کیے گئے؟ عوام جن کے مستقبل کا فیصلہ ہونا  ہےکو کس حد تک اس میں   شامل کیا گیا؟  کتنےفی صد لوگوں کی رائے لی گئی؟ سوال یہ ہے   آزاد کشمیر میں موجود علیحدگی پسند جماعتوں میں اس سلسلے میں کتنی بار رابطے قائم کیے گئے؟ان سے کتنی بار  صدق دل سے اس مسلے کے حل کی خاطر ملاقاتیں اور مشاورتیں کی  گئیں؟ اور پھر یہ  کے   یو این کی قرارداتوں پر کس طرح عمل کرایا جائے گا؟ کشمیر کو عالمی عدالتوں میں اٹھانے کی باتیں تو کی جارہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کشمیر کا مقدمہ تو پہلے ہی یو این اور عالمی برادری میں اٹھایا جا چکا ہے  ضرورت ہے تو اس مقدمے کی پوری دلچسپی سے پیروی کی  اس کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ،؟یو این او سے  قرار داتوں پر کس طرح عمل کرایا جائے گا؟ مقبوضہ کشمیر  میں جاری مظالم پر بیان تو دیے جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے ہندوستان کے جاری مظالم کس طرح روکے جائیں گے ، ؟ایل او سی کے اس  پار کشمیریوں کے حقوق کی جنگ کس طرح لڑی جائے گی ؟ ان کی حصول آزادی کی تحریک میں کس طرح معاونت کی جائے گی؟ یہ تھے وہ سوالات جنکا جواب  سیاسی جماعتوں نے عوامی رابطوں میں عوام  کو دینا تھا  ۔ لیکن افسوس کے سیاسی جماعتوں کی تقرریں سیاسی ہی ثابت ہوئیں ۔
اگر لوکل سطح پر دیکھا جائے تو امید واروں کی سیاست  عام اصطلاح میں نلکے اور کمبھے کی سیاست تھی، اس بات میں کیا شبہ کے نلکہ اور کنھبہ عوام کی  ضروریات ہیں اور عوام ان بنیادی ضروریات سے محروم ہیں لیکن نلکے اور کنھبے کی سیاست کے باوجود  کسی سیاسی جماعت اور امیدورا کے پاس سوائے تسلیوں اور وعدوں کے عوام کو دینے کے لیے کچھ نہ  تھا  حتیٰ کے اصول ، نظریے اور منشور کا تقاضا یہ تھا  جماعتوں کے پاس عوام کی فلاح و بہبود اور  ریاستی ترقی کا ایک پورا پلان ہوتا   جسے عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ۔
اگرچہ  کشمیری عوام اور باالخصوص نوجوانوں میں قدرے شعور آیا لیکن  شاید  یہ ارتقائی مراحل میں ہے کیوں عوام میں سے بھی کسی نے کسی امید وار سے مسلئہ کشمیر کا کوئی سوال نہ کیا، مسلئہ کشمیر کے ذکر نہ کرنے پر کوئی حیرانگی اور تعجب کااظہار نہ کیا گیا،  نہ عوام نے  منشور کا مطالبہ کیا  اور نہ ہی عوام نے منشور پر ووٹ ڈالے ۔ سچ تو یہ ہے  نہ عوام نے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ووٹ ڈالا اور نہ امیدواروں نے قومی مفاد میں الیکشن  میں حصہ لیا ،۔

ایک سچ یہ بھی ہے  پاکستان کی کسی حکومت نے بھی  مسلہ کشمیر  پر سوائے بیان دینے کے اور کوئی سنجیدہ قدم نہ اٹھایا  اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے  پاکستان اور کشمیر کی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں  کو اب مسلئہ کشمیر فقط مخصوص ایام میں ہی یاد آتا ہے ۔

یہ شاید پاکستانی  اور کشمیری حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے روایتی انداز کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلئہ کشمیر آج بھی وہیں اور ویسا ہی ہے  جس طرح  قریبا نصف صدی پہلے تھا اور 6چھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود  مسلہ کشمیر ایک قدم  بھی آگے نہ بڑھ سکا اور اگر یہی انداز  رہا تو کیا عجب کے  مزید چھ دہائیاں گز ر جائیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *