میڈیا جھوٹ تو نہ بولے!

انجینئر افتخار چودھریiftikhar chaudhry engineer
میں تھوڑی دیر پہلے نیب کے دفتر کے سامنے پی ٹی آئی کے بڑے مظاہرے میں شرکت کر کے واپس آیا ہوں جس کی قیادت نوجوان سیف اللہ نیازی نے کی۔واپسی پر دفتر میں رضوان اور صبغت اللہ ورک کے پاس تھوڑی دیر کے لئے رکا تو ایک چینیل جس کو پی ٹی آئی سے دشمنی کی حد تک ویر ہے بتا رہا تھا کہ پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے میڈیا پر تشدد کیا ہے۔مجھے یہ جان کر حیرانگی ہو ئی کہ وہ جماعت جس نے میڈیا کی آزادی کے لئے سڑکوں پر جدوجہد کی وہ صحافیوں سے لڑائی کیوں کرے گی۔جیو کے حامد میر بتائیں گے کہ جب مشرف نے آپ کا پروگرام بند کیا تو سڑکوں پر جو کیپیٹل ٹاک ہوا اس میں کون شریک تھا؟ہمارے ایک محترم دوست ہیں اور پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن ہیں سردار ناصر وہ بھی ہمارے ساتھ دفتر میں تھے انہوں نے بتایا کہ میڈیا کے ایک فرد نے مجھے کیمرے کا ٹرائی پیڈ مارا ہے۔لڑائی کسی کی بھی نہیں ہوئی البتہ کارکن کسی بات پر الجھ پڑے تو میڈیا والے شخص نے جناب عمران خان کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے جس پر اس کو منع کیا گیا اس سے موصوف غصے میں آ گئے اور انہوں نے سردار ناصر جیسے بھلے مانس پر حملہ کر دیا۔جو فوٹیج وہ چلا رہے تھے اس میں ملنگی فورس کے عزیز اللہ خان بھی دکھائی دیے جو بیچ بچاؤ کرا رہے تھے۔یقین کیجئے کچھ عرصے سے دیکھنے میں آیا ہے کہ میڈیا کے چند ساتھی جن کا صحافت سے دور دور کا بھی تعلق نہیں وہ کیمرے لئے آن پہنچتے ہیں اور سیاست دانوں کی تضحیک کرتے دکھائی دیتے ہیں۔جناب عمران خان نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے لئے جناب نعیم الحق کو کہا ہے وہ یقیناًاس مسئلے کو سلجھا لیں گے۔میں گزشتہ آٹھ سال سے میڈیا کو قریب سے دیکھ رہا ہوں،خود بھی خبریں سے تعلق رہا ہے۔ان میں بہت سوں سے دوستی ہے اور بہت سوں سے سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے مشروم کی طرح اگنے والے ان چینیلز نے بھی جب نوکریاں دیں تو شائد معیار کا خیال رکھنے میں کوتاہی کی اور منڈی سے جو گند ملا اسے رکھ لیا۔آپ وی کماؤ تے سانوں وی کھواؤ۔
پچھلے دنوں سویٹ ہوم میں ایک افطاری میں جانے کا موقع ملا جو برادر ڈاکٹر وسیم شہزاد نے کی تھی وہاں چیئرمین آ رہے تھے۔عمران خان جب میدان میں آئے تو ہم لوگ جو پہلی صفوں میں تھے سب نے اٹھ کر چیئرمین کا استقبال کیا جس میں میں بھی شامل تھا۔اتنے میں پیچھے سے انتہائی بد تمیز آواز نے میرا تعاقب کیا۔میں نے مڑ کر دیکھا یہ معاشرے کی آنکھ تھی لیکن وہ آنکھ جس میں سوء ر کا بال آیا ہوا تھا اس قدر بے ہودگی الاماں۔مادر پدر آزاد صحافت نے اس قسم کے دم چھلے پیدا کئے ہیں جو اپنے باپ کی عمر کے شخص کو بھی اوئے کر کے بلاتے ہیں۔ان کا مطالبہ اور خواہش ہے کہ وہ کام کریں گے جاہلوں بد تمیزوں والے مگر رویے چاہیں گے جیسے یہ طرم خان سعود ساحر،سید صلاح الدین،شکیل ترابی ،تزئین اختر،عقیل ترین،اطہرہاشمی،نصیر ہاشمی،آصف محمود ہیں جن کے لفظوں سے سیدھے راستے کے مسافروں کو روشنی ملتی ہے۔اب فیصلہ کر لیجئے۔انیلہ خواجہ کہہ رہی تھیں کہ صحافیوں نے کہا ہے کہ ہم عمران خان کی پریس کانفرنسوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ویسے دل تو نہیں کرتا کہ انہیں کچھ اور سناؤں مگر یاد رکھنا یہ جیو ہی کے صحافی تھے جو حامد میر سمیت بنی گالہ پہنچے تھے اور عمران خان سے گڑ گڑا کر اپیل کر رہے تھے کہ ہمارے پیٹ پر تو لات نہ ماریں۔پارٹی کے فیصلے بڑے کرتے ہیں ہمارے بڑے نعیم الحق اور عمران خان ہیں جو وہ فیصلہ کریں قبول مگر میں آج ایک بار لکھے دیتا ہوں کہ اگر پی ٹی آئی نے جیو اور جنگ گروپ کا بائیکاٹ کیا تو وہ ایک بار پھر بنی گالہ یاترا کو نکل پڑیں گے۔ پارٹی کے فیصلے سر آنکھوں پر مگر جیو کا بائیکاٹ ختم کر کے اچھا نہیں کیا۔صحافی کوئی آسمان سے نہیں اترا اس ملک میں صحافت کو پیشہ ور بازار میں کھڑا کرنے والوں نے آئی ایس آئی کو رسوا کر کے بیرون ملک فلیٹ لئے۔پاک فوج کو رسوا کیا اجمل قصاب کو پاکستانی بنا دیا اور اسی صحافت نے بنگلہ دیش جا کر پاکستان کے خلاف ضمیر بیچنے والوں کے نام سے جڑے ایوارڈ لئے۔شرم آنی چاہئے اس صحافت کو جو دولت کے بازار میں بلبل کی طرح ناچی اور نوٹ وخا میرا موڈ بنے کے گیت گائے۔
ہم کب کہتے ہیں کہ سارے صحافی گندے ہیں مگر جو اچھے ہیں ان کو سامنے کیوں نہیں لایا جاتا۔ان کی آواز کیوں مدھم ہے ان کی بات کیوں نہیں سنی جاتی۔اسلام اور دو قومی نظریے کی بات کرنے والے چینیل کو سلام جو اس ریل پیل کی دنیا میں صدائے حق بلند کر رہا ہے۔رات سلیم بخاری کو سن رہا تھا وہاں ایک بریگیڈئر صاحب یہی رونا رو رہے تھے۔میں مایوس تھا لیکن رات کو سلیم بخاری نے ثابت کیا کہ مجید نظامی ابھی زندہ ہے۔ جاوید صدیق،رمیزہ سے ملا تو بات کی تصدیق مزید ہو گئی سعید آسی نے خوش کر دیا۔میں اپنے بیٹے کو کہہ رہا تھا جب جیو جیسے چینیل دیکھ کر پاکستانیت ہچکولے کھائے تو وقت دیکھ لینا۔
میں نہیں چاہتا کہ میری تحریر یک طرفہ ہو مگر صحافت کے اجڑے دیار میں جو لوگ شمع جلائے ہوئے ہیں ان کی بات بھی کر لینی چاہئے۔سویٹ ہوم میں اپنے باپ جیسے لوگوں کی بے توقیری کرنے والے اور سردار ناصر جیسے لوگوں پر حمل آور ہونے والے لوگ یقیناًصحافت کی لوح پر ایک گندہ لفظ ہیں مگر کیا کیا جائے انحطاطی دور میں یہی کچھ ملنا مقدر ہے۔پاکستان تحریک انصاف کبھی بھی صحافت کی توہین نہیں کرے گی۔اس معاملے کو کارکنوں کا آپس میں غصے میں آ جانا،اس سے صرف نظر بھی کیا جا سکتا تھا مگر اسے خبر بنا کر اچھالنا اور اس بات سے بتنگڑ بنانا کہاں کا انصاف ہے۔اخبارات اور چینیلز اپنے سٹاف کے معیار کو بہتر کریں اچھی صحافت کا یہی تقاضہ ہے۔وہ وقت گیا کہ آپ کسی کے آرٹیکل کو نہیں چھاپتے تھے اگر چھاپتے تھے تو ہزار احسان کر کے۔کسی کو اب آپ کی ضرورت نہیں ہے سودا براری کا ہے لینا ہے تو لو،ورنہ یاد رکھنا بائیکاٹ کی دھمکیاں کسی اور کو دینا عمران خان اگر آپ کے چینیل پر نہ آیا تو لوگوں کے ہاتھ میں روموٹ ہے۔اور تو اور سوشل میڈیا موجود ہے۔تم جاؤ لے جاؤ اپنی اس بھونڈی چھابڑی کو ہم سودا کسی اور سے لے لیں گے۔اگر سچ نہیں بول سکتے ہو تو میڈیا جھوٹ تو نہ بولے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *